ممبئی،24/دسمبر (ایس او نیوز/یواین آئی) مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے آج یہاں مسلم اراکین اسمبلی، علمائے کرام اورمسلم دانشوروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو وچن دیتا ہوں کہ مہاراشٹر میں این آر سی قانون نافذ نہیں ہوگا لہٰذا اب آپ اس سلسلے میں کئے جانے والے احتجاج کے سلسلے کو بند کریں آپ کے احتجاج کی آواز ایوان حکومت تک پہنچ چکی ہے -ممبئی کے سرکاری سہیادری گیسٹ ہاؤس میں منعقدہ اس میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ احتجاج کے سلسلے کو بند کریں کیونکہ اب اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے ان احتجاجی مظاہروں کافائدہ اٹھاتے ہوئے سماج دشمن عناصر احتجاج کی آڑ میں تشدد برپاکرسکتے ہیں - ریاست میں نظم وضبط اورامن کی ضرورت کی ذمہ داری اب عوام کی ہے - جو غلط فہمیاں ہیں اس کو بھی دور کرنا وقت کا تقاضا ہے -وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر این آر سی اور کیب قانون کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ کیب کاتعلق مسلمانوں سے نہیں ہے اس کی رو سے ملک میں مقیم بیرون ملک کی مذہبی اقلیتوں کو ہندوستان کی شہریت دی جائے گی لہٰذا مسلمان اس معاملے میں بھی فکر مند نہ ہوں -ادھوٹھاکرے نے یہ بھی کہا کہ سی اے اے شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی کے تعلق سے لوگوں میں اضطراب پایا جارہا ہے اس لئے ہم عوام کے جذبات سے اچھی طرح واقف ہیں کیونکہ یہ مسئلہ ملک کا ہے اور ریاست میں ہم اس کا نفاذ قطعی نہیں کریں گے -
ادھوٹھاکرے نے کہا کہ مسلمانوں کو اس معاملے میں خوفزدہ اور فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے -انہوں نے سابق بی جے پی حکومت کی جانب سے ممبئی سے متصلہ نئی ممبئی شہر میں تعمیر کیے جانے والے ڈٹینشن سنٹرکا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا کہ وہ حراستی مراکزہے جو نائیجیریائی یا دیگر باشندوں کے لئے ہے - جو منشیات کا استعمال کرتے ہیں اور یاست میں غیر قانونی طریقے سے قیام پذیر ہیں -